ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شریعت پرعمل ہی اصل میں تحفظ شریعت ہے، شریعت کا کوئی کیا بگاڑے گا اسکا محافظ خود اللہ ہے؛ مہسلہ میں علماء کرام کا بیان۔

شریعت پرعمل ہی اصل میں تحفظ شریعت ہے، شریعت کا کوئی کیا بگاڑے گا اسکا محافظ خود اللہ ہے؛ مہسلہ میں علماء کرام کا بیان۔

Thu, 12 Jan 2017 18:33:09    S.O. News Service

مروڈ جنجیرہ 12/ جنوری(ایس او نیوز/سراج شیخ) کسی مذہب نے خواتین کو کچھ بھی حق نہیں دیا سوائے ان کی عزت وناموس و فطری تقاضوں سے کھلواڑ کرنے کے، مذہب اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو ان کے فطری تقاضوں کے مطابق مکمل حقوق عطافرمائے اور تحفظ شریعت کا اصل محافظ اللہ ہے ہمارا شریعت کا اپنانا اس کا اصلی تحفظ ہے۔ان خیالات کا اظہارشیخ اسلم مدنی صاحب (مدینہ منورہ) نے خواتین کی فضیلت پر گفتگو کرتے ہوئے،”تحفظ شریعت اور مسلمانان ہند“ کے عنوان پر منعقدہ شعبہ دعوت وتبلیغ جماعت المسلمین مہسلہ کے سالانہ اجلاس میں کیا۔ شیخ عبدالحمید مدنی (شارجہ) نے علم کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے علم کو غذا ودیگر ضروریات سے زیادہ ناگزیر قرار دیا اور فرمایا شریعت نے ہر مسلمان پر علم دین کو فرض قرار دیا ہے۔شعبۂ دعوت وتبلیغ جماعت المسلمین مہسلہ کا پندرہواں سالانہ اجلاس عام صدر جماعت المسلمین مہسلہ احمد علی قمرالدین پینکر کے زیر سرپرستی اور امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی عظمیٰ مولانا عبدالسلام سلفی کے زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس چار نشستوں پر مشتمل تھا جس میں عبداللہ قاضی، عبدالرحمن مدنی، مستقیم راجپورکراور جمال الدین شیخ نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ عبدالصمد ہرزک اور عادل ہرزک نے حمد ونعت پیش فرمائی اور مدیر شعبۂ دعوت وتبلیغ جناب مولانا عبدالعزیز خطیب صاحب نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے افتتاحی کلمات فرمائے۔مہمان خصوصی شیخ فیض اللہ مدنی صاحب (کویت) نے اتحاد واتفاق کے موضوع پر اپنے خطبہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو متحد ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ ہرحال میں مسلمان کو اپنے بھائی سے بغض، نفرت، عداوت سے دور رہنا چاہیے تحفظ شریعت کیلئے مسلمان اجتماعیت کے ساتھ کوشش کریں گے تو اِنشاء اللہ کامیابی  قدم چومے گی کیوں کہ اجتماعیت میں جوطاقت وقوت ہے وہ بے مثال ہے۔جناب ابوزید ضمیر صاحب (پونہ) نے موجودہ ملکی وعالمی حالات میں خاص طور سے مسلمانوں کو دین کی طرف لوٹنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے حالات میں سدھار کی ضمانت صرف کتاب وسنت کی طرف لوٹنے میں ہے۔میدان دعوت کے شہسوار ہر دلعزیز خطیب شیخ ظفرالحسن مدنی صاحب (شارجہ) نے ”اہل السنہ والجماعۃ ماضی وحال کے آئینے میں“ اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔استاذالاساتذہ قاری نثار احمد فیضی صاحب (مؤ،یوپی) نے گناہ اور اسکے اثرات کے موضوع پر سامعین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک اثر ہوتا ہے شریعت میں مداخلت کی کوشش، مسلمانوں پر ظلم وزیادتی، حقوق پر غاصبانہ قبضہ وغیرہ ہمارے گناہوں کے اثرات ہیں اسلئے ہمیں ہر گناہ چھوڑنے کا عہد کرنا چاہیے۔اجلاس عام کے صدر محترم شیخ عبدالسلام سلفی صاحب (کوسہ) نے تحفظ شریعت کے حوالے سے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ملک میں شریعت اسلامیہ کے خلاف جو ماحول بنایا جارہاہے اور اس میں مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے اسے ہم کسی قیمت پربرداشت نہیں کر سکتے اور ان تمام حالات میں حق کی تائید اور نمائندگی کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں البتہ ذمہ داران وعلماء سے یہ ضرور گذارش کریں گے کہ ہر مسئلے کوکتاب وسنت سے حل کیا جائے لوگوں کے اجتہادات وآراء کی وجہ سے کتاب وسنت سے ہٹ کر دشمنان اسلام کو شریعت میں مداخلت کا موقع نہ دیں۔ علماء کرام اور مشائخ کے علاوہ جامعہ محمدیہ مہسلہ کے طلباء مستقیم راجپورکر، یوسف سرکھوت اور خضر کودرے نے بھی عمدہ تقریریں پیش کی جسے لوگوں نے خوب سراہا۔اخیر میں سامعین کی طرف سے آئے ہوئے سوالات کے جوابات دئے گئے او ردنیا بھرکے مظلوم مسلمانوں بھائیوں بالخصوص شام، فلسطین اور برماوغیرہ کیلئے دعائیں کی گئی اور ہرمسلمان کو دین کی طرف صحیح معنوں میں لوٹنے کی تلقین کی گئی اور یہی تحفظ شریعت کا اصل مظہر ہے۔ انجمن اسلام جنجیرہ ہائی اسکول کے گراونڈ پر ایک وسیع وعریض میدان میں منعقدہ اس اجتماع میں ملک کے گوشے گوشے سے، کوکن کے اضلاع،ممبئی، پونہ، نانڈیر، اورنگ آباد، شولاپور،میرج،یوپی، کلکتہ وغیرہ سے ہزار وں افراد نے شرکت فرمائی اور مزید ہزاروں لوگوں نے شوشل میڈیا کے ذریعہ ملک وبیرون ملک سے مستفید ہوئے۔ صبح ۰۳:۹ بجے سے شروع ہونے والا یہ اجلاس رات ۵۴:۹پرجماعت المسلمین مہسلہ کے صدر محترم جناب احمد علی قمرالدین پینکرکے کلماتِ تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
 


Share: